23 فروری 2013 - 20:30

صہیونی ریاست کے تسلط پسندانہ اقدامات اور فلسطینیوں کی سخت سرکوبی کے ساتھ ساتھ صیہونی حکام کی توسیع پسندانہ تاکیدات نے اس غاصب حکومت کی مسلسل توسیع پسندپالیسیوں کے جاری رہنے کو پہلے سے بھی زیادہ آشکار کردیا ہے ،غاصب صہیونی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات یعنی صلح کے بہانے ان پر اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو مسلط کرنا چاہتی ہے ۔

ابنا: ان پالیسیوں کے تحت صہیونی ریاست کی سابق وزیر خارجہ اور نئی تشکیل پانے والی پارٹی کی سربراہ تزیپی لیونی نے اپنے حالیہ اظہارات میں تاکید کی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ نہ یہودی کالونیوں کی تعمیرات کو روکنے اور ناہی بیت المقدس کے بارے میں مذاکرات کرے گااوران موضوعات کے مقابلے میں فلسطینیوں کو کبھی بھی مراعات  نہیں دےگا ۔انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس سلسلے میں کبھی بھی اپنے مستقل موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔تزیپی لیونی نے یہ بات یہ  ایسے وقت کہی ہے کہ صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بن یامین نتنیاہو نے انھیں سازشی مذاکرات کا مسئول بنادیا ہے ۔ صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نے اپنی ائتلافی حکومت میں لیونی کی موجودگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کی بھی سربراہ ہوں گی ۔ فلسطینیوں کے مقابلے میں صہیونی ریاست کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے جاری رہنے پر تزیپی لیونی کی تاکید سے صہیونی ریاست کی غاصبانہ اور امن مخالف ماہیت پہلے سے بھی زیادہ آشکار ہوگئی ہے ۔تزیپی لیونی  نے اپنے موقف کا ایسے وقت اعلان کیا ہے کہ صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نے بھی چند روز قبل فلسطینی علاقوں میں یہودی کانیوں کی تعمیر کو جاری رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کے لئے یہودی کالونیوں کی تعمیر کا روکنا ناقابل امکان ہےنیزبنیامین نیتنیاہونے قدس سے بھی پسپائی اختیار کرنے کو مسترد کردیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ  تمام صیہونی حکام حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے میں مشترک نظریات رکھتے ہیں اس سلسلے میں جو بھی فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری لے گا وہ توسیع پسندانہ پالیسیوں کو روکنے کے سلسلے میں ہر قسم کی گفتگو کو مسترد کردے گا۔ صہیونی ریاست سازشی مذاکرات کے ذریعہ خود مختار انتظامیہ کو  صرف اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو قبول کروانا چاہتی ہے ، غاصب صہیونی ریاست  نے اس روش کے ذریعہ ہمیشہ فلسطینوں پر اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں میں اضافہ کیا ہے ۔ اسی لئے صہیونی ریاست نے حالیہ  ہفتوں میں  پھر سے سازشی مذاکرات کے آغاز کے پیش نظر اپنے توسیع پسندانہ اقدامات میں اضافہ کردیا  ہے ۔ ایسی صورت میں خود مختار انتظامیہ کا سازشی مذاکرات سے خوش نہیں ہونا  سراب کی سمت جانے اور فلسطینوں کو مزید مشکلات اور سازش کی طرف ڈھکیل نے کے مترادف ہے ۔صہیونی ریاست کے مقابلےمیں سازشی کردار نے صیہونی حکام کو یہودی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھنے نیز قدس سمیت فلسطینی علاقوں سے پسپائی اختیار نہ  کرنے کے سلسلے میں مزید گستاخ بنا دیا ہے ۔ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی  ڈھانچے کو یہودی کالونیوں کی  تعمیر کو  جاری رکھکر تبدیل  کرنے کے صہیونی ریاست کے اقدامات اقوام متحدہ کی ان قرار دادوں اورعالمی  کنویشنوں کے خلاف ہے جن میں صہیونی ریاست کو فلسطینی علاقوں میں ہر قسم کے تصرف، مداخلت اور غاصبانہ تسلط جاری رکھنے سے منع کیا گیا ہے ۔      

.......

/169